المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو غالب صاحب المحجن، واسمه حزور باب: ابوغالب صاحب المحجن، جن کا نام حزور تھا
حدیث نمبر: 8016
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ، حَدَّثَنِي، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمِنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا، وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ، وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ} [آل عمران: ١١٨] قَالَ: «هُمُ الْخَوَارِجُ»ترجمہ
ابوغالب سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم ﷺ سے، اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں روایت کرتے ہیں: ”اے ایمان والو! اپنے سوا کسی کو راز دار نہ بناؤ، وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، وہ چاہتے ہیں کہ تمہیں تکلیف پہنچے، ان کے منہ سے دشمنی ظاہر ہو چکی ہے، اور جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے، ہم نے تمہارے لیے نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو“ [آل عمران: 118]، فرمایا: ”یہ خارجی ہیں۔“