المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو غالب صاحب المحجن، واسمه حزور باب: ابوغالب صاحب المحجن، جن کا نام حزور تھا
حدیث نمبر: 8013
حَدَّثَنَا ابْنُ عَمْرٍو الْبَزَّازُ، ثنا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّهُ رَأَى رُءُوسَ الْخَوَارِجِ فَقَالَ: «شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ» . قُلْتُ: شَيْئًا تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «لَوْ لَمْ أَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُ بِهِ»ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے خارجیوں کے سر دیکھے تو فرمایا: ”آسمان کے سائے تلے سب سے بدترین مقتول۔“ میں نے عرض کیا: یہ بات آپ اپنی رائے سے کہتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی؟ فرمایا: ”اگر میں نے نبی کریم ﷺ سے ایک یا دو یا تین بار سن کر — یہاں تک کہ سات بار تک — نہ سنا ہوتا تو یہ بیان نہ کرتا۔“