المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو غالب صاحب المحجن، واسمه حزور باب: ابوغالب صاحب المحجن، جن کا نام حزور تھا
حدیث نمبر: 8007
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَا: ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ثنا أَبُو غَالِبٍ قَالَ: أُتِيَ بِرُءُوسٍ حَرُورِيَّةٍ، فَنُصِبَتْ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو أُمَامَةَ وَهِيَ مَنْصُوبَةٌ، فَقَالَ: «شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ السَّمَاءِ هَؤُلَاءِ - ثَلَاثًا - طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ، وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ» . فَقُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، أَشَيْئًا تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ، أَمْ شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ - ثَلَاثًا - سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ»ترجمہ
ابوغالب بیان کرتے ہیں کہ خارجیوں کے سر لائے گئے اور دمشق کی سیڑھیوں پر نصب کر دیے گئے، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے انہیں نصب شدہ حالت میں دیکھا تو فرمایا: ”آسمان کے نیچے سب سے بدترین مقتول یہی ہیں“ — تین بار — ”خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے انہیں قتل کیا، اور خوشخبری ہے اس کے لیے جسے انہوں نے قتل کیا۔“ میں نے عرض کیا: اے ابوامامہ، یہ بات آپ اپنی رائے سے کہتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی؟ فرمایا: ”میں تو ایسی جسارت نہیں کر سکتا“ — تین بار — ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے۔“