المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو غالب صاحب المحجن، واسمه حزور باب: ابوغالب صاحب المحجن، جن کا نام حزور تھا
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، ثنا أَبُو غَالِبٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا بِدِمَشْقَ إِذْ جِيءَ بِسَبْعِينَ رَأْسًا مِنْ رُءُوسِ الْخَوَارِجِ، فَنُصِبَتْ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ، وَجَاءَ أَبُو أُمَامَةَ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى مَا بَدَا لَهُ، فَلَمَّا خَرَجَ بَكَى، ثُمَّ قَالَ: «كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ» ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ، وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ، فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ} [آل عمران: ٧] ، ثُمَّ قَرَأَ: {يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ، فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ} [آل عمران: ١٠٦] فَهُمْ هَؤُلَاءِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ شَيْئًا تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ؟ قَالَ: «إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ، وَلَا مَرَّتَيْنِ، وَلَا ثَلَاثٍ حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعٍ»…پس وہ دمشق کی سیڑھیوں پر نصب کر دیے گئے، اور رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہو کر جتنی نماز چاہی پڑھی، جب باہر نکلے تو رو پڑے، پھر فرمایا: ”جہنم والوں کے کتے۔“ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب نازل کی، اس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، یہ کتاب کی اصل ہیں، اور کچھ متشابہ ہیں، پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اس کی متشابہ آیات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں“ [آل عمران: 7]، پھر تلاوت کی: ”جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے، تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے کہا جائے گا): کیا تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہو گئے تھے؟ پس اپنے کفر کے بدلے عذاب چکھو“ [آل عمران: 106]، تو یہ وہی لوگ ہیں۔ میں نے عرض کیا: اے ابوامامہ، یہ بات آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے یا اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں؟ فرمایا: ”میں تو ایسی جسارت نہیں کر سکتا، میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے ایک بار نہیں، دو بار نہیں، تین بار نہیں، بلکہ سات بار تک سنی ہے۔“