حدیث نمبر: 8002
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ قَالَ: لَمَّا أُتِيَ بِرُءُوسِ الْأَزَارِقَةِ، فَنُصِبَتْ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ، جَاءَ أَبُو أُمَامَةَ، فَلَمَّا رَآهُمْ دَمِعَتْ عَيْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ: «كِلَابُ النَّارِ، كِلَابُ النَّارِ، هَؤُلَاءِ شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، وَخَيْرُ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ هَؤُلَاءِ» . قُلْتُ: فَمَا شَأْنُكَ دَمِعَتْ عَيْنَاكَ؟ قَالَ: «رَحْمَةً لَهُمْ، إِنَّهُمْ كَانُوا مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ» . قَالَ: قُلْتُ: أَبِرَأْيِكَ قُلْتَ كِلَابَ النَّارِ، أَمْ شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ، بَلْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ، وَلَا ثِنْتَيْنِ وَلَا ثَلَاثٍ» فَعَدَّدَ مِرَارًا، ثُمَّ تَلَا: {يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ} [آل عمران: ١٠٦] حَتَّى بَلَغَ: {فِيهَا خَالِدُونَ} [آل عمران: ١٠٧] ، وَتَلَا: {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ} [آل عمران: ٧] حَتَّى بَلَغَ: {أُولُو الْأَلْبَابِ} ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي، فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُمْ بِأَرْضِكَ كَثِيرٌ، فَأَعَاذَكَ اللهُ مِنْهُمْ»
ترجمہ

ابوغالب بیان کرتے ہیں کہ جب خارجیوں کے سروں کو لایا گیا اور دمشق کی سیڑھیوں پر نصب کر دیا گیا تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے، جب انہیں دیکھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، پھر فرمایا: ”یہ جہنم کے کتے ہیں، جہنم کے کتے ہیں، یہ آسمان کے نیچے سب سے بدترین مقتول ہیں، اور آسمان کے نیچے سب سے بہترین مقتول وہ ہیں جنہوں نے انہیں قتل کیا۔“ میں نے عرض کیا: پھر آپ کیوں رو رہے ہیں؟ فرمایا: ”ان پر ترس کھا کر، یہ لوگ اہلِ اسلام میں سے تھے۔“ میں نے عرض کیا: کیا آپ نے یہ اپنی رائے سے فرمایا ہے یا رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی کوئی بات ہے؟ فرمایا: ”میں تو ایسی جسارت نہیں کر سکتا، بلکہ یہ بات میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک بار نہیں، دو بار نہیں، تین بار نہیں (بلکہ کئی بار) سنی ہے۔“ چنانچہ انہوں نے کئی بار گنتی کی، پھر یہ آیت تلاوت کی: ”جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے“ [آل عمران: 106] یہاں تک کہ ”وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے“ [آل عمران: 107] تک پہنچے، اور یہ آیت بھی تلاوت کی: ”وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب نازل کی، اس میں کچھ آیات محکم ہیں“ [آل عمران: 7] یہاں تک کہ ”عقل والے“ تک پہنچے، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ”سن لو، یہ لوگ تمہاری سرزمین میں بکثرت ہیں، پس اللہ تمہیں ان سے محفوظ رکھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 8002
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 266، حدیث 8033