المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عثمان بن أبي العاتكة، عن علي بن يزيد باب: عثمان بن ابی عاتکہ کی علی بن یزید سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ الْجَدْعَاءِ، فَلَمَّا بَرَزُوا سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، فَوَقَفَ يَسْتَمِعُ، فَلَمَّا قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَهِدَ هَذَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ» . فَلَمَّا قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، قَالَ: «بَرِئَ هَذَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مِنَ النَّارِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا صَاحِبُ كِلَابٍ» . فَذَهَبَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ، فَوَجَدُوهُ كَذَلِكَسیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ ایک دن نکلے، آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم تھے، اور نبی کریم ﷺ اپنی اونٹنی جدعاء پر سوار تھے۔ جب وہ سب باہر نکلے تو نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو کہتے سنا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، تو آپ ﷺ رک کر سننے لگے، جب اس نے پھر کہا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے حق کی گواہی دے دی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!“ پھر جب اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جہنم سے بری ہو گیا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!“ تین بار فرمایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کتوں کا مالک ہے۔“ تو سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما گئے، تو انہوں نے اسے ایسا ہی پایا۔