المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عثمان بن أبي العاتكة، عن علي بن يزيد باب: عثمان بن ابی عاتکہ کی علی بن یزید سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِبَيْتِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَقَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: «مَالَكِ يَا كُحَيْلَةُ مُبْتَذِلَةً، أَلَيْسَ عُثْمَانُ شَاهِدًا؟» قَالَتْ: بَلَى وَمَا اضْطَجَعَ عَلَى فِرَاشِي مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، وَيَصُومُ الدَّهْرَ فَمَا يُفْطِرُ، فَقَالَ: «مُرِيهِ أَنْ يَأْتِيَنِي» . فَلَمَّا جَاءَ، قَالَتْ لَهُ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ، فَوَجَدَهُ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ بَلَغَكَ عَنِّي أَمْرٌ قَالَ: «أَنْتَ الَّذِي تَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ لَا تَضَعُ جَنْبَكَ عَلَى فِرَاشٍ؟» قَالَ عُثْمَانُ: قَدْ فَعَلْتُ ذَلِكَ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِعَيْنِكَ حَظٌّ، وَلِجَسَدِكَ حَظٌّ، وَلِزَوْجِكَ حَظٌّ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَنَمْ وَقُمْ، وَائْتِ زَوْجَكَ، فَإِنِّي أَنَا أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأَنَامُ وَأَقُومُ، وَآتِي النِّسَاءَ، فَمَنْ أَخَذَ بِسُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى، وَمَنْ تَرَكَهَا ضَلَّ، فَإِنَّ لِكُلِّ عَمِلٍ شِرَّةٌ، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ، فَإِذَا كَانَتِ الْفَتْرَةُ إِلَى الْغَفْلَةِ فَهِي الْهَلَكَةُ، وَإِذَا كَانَتِ الْغَفْلَةُ إِلَى الْفَرِيضَةِ، لَا يَضُرُّ صَاحِبَهَا شَيْئًا، فَخُذْ مِنَ الْعَمَلِ بِمَا تُطِيقُ، وَإِنِّي إِنَّمَا بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ، فَلَا تَثْقِلْ عَلَيْكَ عِبَادَةَ رَبِّكَ لَا تَدْرِي مَا طُولُ عُمُرِكَ»سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ نکلے تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ گھر کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”اے کحیلہ! تم بناؤ سنگھار چھوڑے ہوئے کیوں ہو، کیا عثمان موجود نہیں؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، مگر وہ اتنے عرصے سے میرے بستر پر لیٹے ہی نہیں، اور ہمیشہ روزہ رکھتے ہیں، افطار نہیں کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کہو کہ میرے پاس آئے۔“ جب وہ آئے تو اس نے انہیں بتایا، وہ چلے، انہیں مسجد میں پایا تو ان کے پاس جا بیٹھے، مگر آپ ﷺ نے ان سے منہ پھیر لیا، تو وہ رو پڑے، پھر کہا: مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ کو میرے بارے میں کوئی بات پہنچی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو، اور رات بھر عبادت میں کھڑے رہتے ہو، اپنا پہلو بستر پر نہیں رکھتے؟“ سیدنا عثمان نے کہا: میں نے ایسا نیکی کی طلب میں کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری آنکھ کا بھی حق ہے، تمہارے جسم کا بھی حق ہے، اور تمہاری بیوی کا بھی حق ہے، سو روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، سوؤ بھی اور عبادت میں کھڑے بھی ہو، اور اپنی بیوی کے پاس بھی جاؤ، کیونکہ میں خود بھی روزہ رکھتا ہوں اور افطار کرتا ہوں، سوتا بھی ہوں اور عبادت میں کھڑا بھی ہوتا ہوں، اور اپنی بیویوں کے پاس بھی جاتا ہوں۔ پس جس نے میرے طریقے کو اپنایا اس نے ہدایت پائی، اور جس نے اسے چھوڑا وہ گمراہ ہو گیا۔ کیونکہ ہر عمل کا ایک جوش ہوتا ہے، اور ہر جوش کے بعد ایک سستی آتی ہے، تو اگر سستی غفلت کی طرف لے جائے تو وہ ہلاکت ہے، اور اگر غفلت کے باوجود فرض کی طرف لوٹ آئے تو اس کے صاحب کو کوئی نقصان نہیں۔ سو عمل میں سے اتنا ہی لو جتنی تم میں طاقت ہو، کیونکہ مجھے آسان اور سیدھی حنیفیت کے ساتھ بھیجا گیا ہے، سو اپنے رب کی عبادت کو اپنے اوپر بوجھ نہ بناؤ، تمہیں نہیں معلوم کہ تمہاری عمر کتنی طویل ہے۔“