المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثابت بن عجلان، عن القاسم باب: ثابت بن عجلان کی قاسم سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّهِيدِيُّ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ لَيْثًا يُحَدِّثُ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا، فَأَمَرَ الْمُنَادِيَ، فَنَادَى: «مَنْ كَانَ مُضَعَّفًا، فَلْيَرْجِعْ» . فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَرَاجَعُونَ حَتَّى بَلَغُوا مَضِيقًا مِنَ الطَّرِيقِ، فَوَقَصَتْ بِرَجُلٍ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ، فَرَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَى بِالْمُسْلِمِينَ فَأَتَاهُ النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا شَأْنُكُمْ، وَمَا حَبَسَكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فُلَانُ أَتَى الْمَضِيقَ مِنَ الطَّرِيقِ، فَوَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ فَقَتَلَتْهُ. قَالَ: فَدَعَوْهُ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَأَبَى، فَأَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى: «إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ»
«أَلَا وَإِنَّ الْحُمُرَ الْأَهْلِيَّةَ حَرَامٌ، وَكُلُّ سَبُعٍ ذِي نَابٍ» أَوْ قَالَ ذِي ظُفُرٍ "سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے، تو آپ ﷺ نے منادی کرنے والے کو حکم دیا، اس نے اعلان کیا: ”جو کمزور ہو وہ واپس لوٹ جائے۔“ تو لوگ واپس لوٹنے لگے یہاں تک کہ راستے کی ایک تنگ جگہ پر پہنچے، تو ایک آدمی کی اونٹنی نے اس کی گردن مروڑ کر اسے مار ڈالا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو مسلمانوں کو پکارا، لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا، تم کیوں رکے ہو؟“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! فلاں شخص راستے کی تنگ جگہ پر پہنچا تو اس کی سواری نے اس کی گردن مروڑ کر اسے مار ڈالا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اس پر (کوئی اور) نماز پڑھا دے،“ اور خود اس پر نماز پڑھنے سے انکار فرما دیا، پھر ایک منادی کو حکم دیا، تو اس نے اعلان کیا: ”جنت نافرمان کے لیے حلال نہیں“
”سن لو! پالتو گدھے حرام ہیں، اور ہر کچلی والا“ — یا فرمایا ”پنجے والا — درندہ حرام ہے۔“