حدیث نمبر: 7667
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُجَرِّبُ أَحَدُكَمْ بِالْبَلَاءِ كَمَا يُجَرِّبُ أَحَدُكُمْ ذَهَبَهُ بِالنَّارِ، فَمِنْهُ مَا يَخْرُجُ كَالذَّهَبِ الْإِبْرِيزِ، فَذَلِكَ الَّذِي حَمَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الشُّبُهَاتِ، وَمِنْهُ مَا يَخْرُجُ كَالذَّهَبَةِ دُونَ ذَلِكَ، فَذَلِكَ الَّذِي شَكَّ بَعْضَ الشَّكِّ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَخْرُجُ كَالذَّهَبِ الْأَسْوَدِ، فَذَلِكَ الَّذِي قَدِ افْتُتِنَ»
ترجمہ

اسی سند سے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل تم میں سے کسی کو آزمائش کے ذریعے اسی طرح آزماتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے سونے کو آگ کے ذریعے آزماتا ہے، تو اس میں سے کچھ خالص سونے کی طرح نکلتا ہے، تو یہ وہ شخص ہے جسے اللہ عزوجل نے شکوک و شبہات سے محفوظ رکھا، اور اس میں سے کچھ اس سے کمتر سونے کی طرح نکلتا ہے، تو یہ وہ ہے جس نے کچھ شک کیا، اور ان میں سے کچھ کالے سونے کی طرح نکلتا ہے، تو یہ وہ ہے جو فتنے میں پڑ گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7667
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 166، حدیث 7698