المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليم بن عامر أبو يحيى الخبائري، عن أبي أمامة معاوية بن صالح، عن سليم بن عامر باب: سلیم بن عامر ابویحییٰ خبائری کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات؛ معاویہ بن صالح کی سلیم بن عامر سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ» . قَالَ يَزِيدُ بْنُ الْأَخْنَسِ السُّلَمِيُّ: وَمَا هَذَا فِي أُمَّتِكَ إِلَّا كَالذُّبَابِ الْأَزْرَقِ فِي الذِّبَّانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةُ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ»
قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا سَعَةُ حَوْضِكَ؟ قَالَ: «مِثْلُ مَا بَيْنَ عَدْنٍ وَعُمَانَ، وَهُوَ أَوْسَعُ وَأَوْسَعُ» ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ. «فِيهِ شِعْبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ» . قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا شَرَابُهُ؟ قَالَ: «شَرَابُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنَ الْعَسَلِ، وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ»سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل فرمائے گا۔“ یزید بن اخنس سلمی نے کہا: آپ کی امت میں یہ تعداد تو مکھیوں کے جھنڈ میں نیلی مکھی کے برابر ہے! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار مزید، اور تین لپیں مزید۔“
صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہے؟ فرمایا: ”عدن اور عمان کے درمیانی فاصلے کے برابر، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور زیادہ،“ اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ ”اس میں سونے اور چاندی کی دو نالیاں ہیں۔“ عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا پانی کیسا ہے؟ فرمایا: ”اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا، اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔“