حدیث نمبر: 7507
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ حِلْيَةِ السُّيُوفِ، أَمِنَ الْكُنُوزِ هِيَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، هِي مِنَ الْكُنُوزِ» . فَقَالَ رَجُلٌ: هَذَا شَيْخٌ أَحْمَقُ قَدْ ذَهَبَ عَقْلُهُ، فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: «أَمَا إِنِّي مَا حَدَّثْتُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ»
ترجمہ

محمد بن زیاد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے تلواروں کی زیبائش کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ ذخیرہ شدہ مال میں شمار ہوتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں، وہ ذخیرہ شدہ مال میں سے ہے۔ اس پر ایک شخص نے کہا: یہ بوڑھا احمق ہے، اس کی عقل جاتی رہی ہے۔ تو ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تمہیں وہی بیان کیا ہے جو میں نے سنا ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7507
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 117، حدیث 7538