❮
❯
حدیث نمبر: 7506
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا نُوحُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَوًى السَّكْسَكِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ بِتَبُوكَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، اشْهَدْ جَنَازَةَ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيِّ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَوَضَعَ جَنَاحَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى الْجِبَالِ فَتَوَاضَعَتْ، وَوَضَعَ جَنَاحَهُ الْأَيْسَرَ عَلَى الْأَرْضِ فَتَوَاضَعَتْ حَتَّى نَظَرَ إِلَى مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ وَجِبْرِيلُ وَالْمَلَائِكَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «يَا جِبْرِيلُ، مَا بَلَّغَ مُعَاوِيَةَ بْنَ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيَّ هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ؟» قَالَ: بِقِرَاءَتِهِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَرَاكِبًا وَمَاشِيًا
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس جبریل علیہ السلام آئے، جبکہ آپ ﷺ تبوک میں تھے، اور کہا: اے محمد! معاویہ بن معاویہ مزنی کے جنازے میں شرکت کیجیے۔ تو رسول اللہ ﷺ نکلے، اور جبریل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ اترے، اور اپنا دایاں پر پہاڑوں پر رکھا تو وہ جھک گئے، اور اپنا بایاں پر زمین پر رکھ دیا تو زمین اس طرح جھک گئی کہ وہاں سے مکہ اور مدینہ نظر آنے لگے، پھر رسول اللہ ﷺ، جبریل علیہ السلام اور فرشتوں نے اس پر نماز جنازہ پڑھی، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے جبریل! معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ اس مقام کو کس عمل سے پہنچے؟“ جبریل نے کہا: قل ہو اللہ احد (سورۃ اخلاص) کے پڑھنے سے، کھڑے، بیٹھے، سوار اور پیدل چلتے ہوئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7506
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 116، حدیث 7537