المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن حبيب المحاربي قاضي عمر بن عبد العزيز، عن أبي أمامة صدي بن عجلان باب: سلیمان بن حبیب محاربی، عمر بن عبدالعزیز کے قاضی، کی ابواُمامہ صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا خَالِدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: " أَرْبَعَةٌ لَعَنَهُمِ اللهُ فَوْقَ عَرْشِهِ، وَأَمَّنَتْ عَلَيْهِمْ مَلَائِكَتُهُ: الَّذِي يُحْصِنُ نَفْسَهُ عَنِ النِّسَاءِ، وَلَا يَتَزَوَّجُ وَلَا يَتَسَرَّى لِأَنْ لَا يُولَدَ لَهُ وَلَدٌ، وَالرَّجُلُ يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ، وَقَدْ خَلْقَهُ اللهُ ذَكَرًا، وَالْمَرْأَةُ تَتَشَبَّهُ بِالرِّجَالِ، وَقَدْ خَلَقَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أُنْثَى، وَمُضَلِّلُ الْمَسَاكِينَ " قَالَ خَالِدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ: " يَعْنِي الَّذِي يَهْزَأُ بِهِمْ يَقُولُ لِلْمِسْكِينِ: هَلُمَّ أُعْطِيكَ، فَإِذَا جَاءَهُ الرَّجُلُ قَالَ: لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ، وَيَقُولُ لِلْمَكْفُوفِ: اتَّقِ الْبِئْرَ، اتَّقِ الدَّابَّةَ، وَلَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ، وَالرَّجُلُ يَسْأَلُ عَنْ دَارِ الْقَوْمِ، فَيُرْشِدُهُ إِلَى غَيْرِهَا "سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”چار قسم کے لوگوں پر اللہ نے اپنے عرش کے اوپر سے لعنت کی ہے، اور اس کے فرشتوں نے اس پر آمین کہی ہے: وہ شخص جو صرف اس لیے عورتوں سے دور رہے، نہ نکاح کرے اور نہ لونڈی رکھے، تاکہ اس کی کوئی اولاد نہ ہو، اور وہ مرد جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرے حالانکہ اللہ نے اسے مرد بنایا ہے، اور وہ عورت جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے حالانکہ اللہ عزوجل نے اسے عورت بنایا ہے، اور مسکینوں کو گمراہ کرنے والا۔“ خالد بن زبرقان کہتے ہیں: یعنی وہ شخص جو مسکینوں کا مذاق اڑاتا ہے، مسکین سے کہتا ہے: آؤ میں تمہیں کچھ دوں، پھر جب وہ آدمی اس کے پاس آتا ہے تو کہتا ہے: میرے پاس کچھ نہیں۔ اور نابینا سے کہتا ہے: کنویں سے بچو، جانور سے بچو، حالانکہ اس کے سامنے کچھ نہیں ہوتا۔ اور جو شخص کسی قوم کے گھر کے بارے میں پوچھے تو وہ اسے غلط راستہ بتا دیتا ہے۔