المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن حبيب المحاربي قاضي عمر بن عبد العزيز، عن أبي أمامة صدي بن عجلان باب: سلیمان بن حبیب محاربی، عمر بن عبدالعزیز کے قاضی، کی ابواُمامہ صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 7457
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا أَبُو كَعْبٍ السَّعْدِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ، وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ، وَإِنْ كَانَ مَازِحًا، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسُنَ خُلْقُهُ»ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس شخص کے لیے جنت کے اردگرد ایک گھر کا ذمہ دار ہوں جو جھگڑا چھوڑ دے، خواہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے وسط میں ایک گھر کا ذمہ دار ہوں اس کے لیے جو جھوٹ چھوڑ دے، خواہ مذاق میں ہو، اور جنت کے بلند ترین حصے میں ایک گھر کا ذمہ دار ہوں اس کے لیے جس کا اخلاق اچھا ہو۔“