❮
❯
حدیث نمبر: 7295
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ خَمِيصَةً لَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ، فَأَتَاهُ سَارِقٌ فَسَرَقَهَا، فَجِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُقْطَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هِيَ لَهُ. قَالَ: «فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ؟»
ترجمہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے، تو مسجد میں سو گئے، اور اپنی چادر اپنے سر کے نیچے رکھ لی، تو ایک چور آیا اور اسے چرا لیا، تو اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا، تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو اسی کی ہے (میں نے اسے دے دی)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے یہ بات مجھے لانے سے پہلے کیوں نہ بتائی؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7295
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 47، حدیث 7326