المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
صفوان بن أمية بن خلف الجمحي يكنى أبا وهب " أتى النبي صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة، فأجله أربعة أشهر، وشهد حنينا وهو مشرك، ثم أسلم بعد ذلك، توفي مقتل عثمان رضي الله عنه " باب: سیدنا صفوان بن امیہ بن خلف جمحی رضی اللہ عنہ، کنیت ابووہب، فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں چار ماہ کی مہلت دی، اور غزوہ حنین میں شریک ہوئے جبکہ وہ اس وقت تک مشرک تھے، پھر بعد میں اسلام قبول کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت وفات پائی
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قِيلَ لِصَفْوَانَ: إِنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ، فَقَدْ هَلَكَ. فَدَعَا بِرَاحِلَتِهِ فَرَكِبَهَا، فَأَتَى الْمَدِينَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا وَهْبٍ؟» قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ لَا دِينَ لِمَنْ لَا هِجْرَةَ لَهُ. قَالَ: " ارْجِعْ إِلَى أَبَاطِحِ مَكَّةَ فَرَجَعَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ. فَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَرَقَ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، سَرَقَ هَذَا رِدَائِي. فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فَقَطَعَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ يَبْلُغْ رِدَائِي مَا يُقْطَعُ فِيهِ يَدُ رَجُلٍ قَدْ جَعَلْتُهَا صَدَقَةً عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ؟»صفوان رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: جو ہجرت نہ کرے وہ ہلاک ہو گیا۔ تو انہوں نے اپنی سواری منگوائی اور اس پر سوار ہو گئے، اور مدینہ آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمہیں کیا چیز لائی اے ابووہب؟“ انہوں نے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جو ہجرت نہ کرے اس کا کوئی دین نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکہ کی وادیوں کی طرف واپس چلے جاؤ۔“ تو وہ واپس چلے گئے، اور مسجد میں داخل ہوئے، تو اپنی چادر کا تکیہ بنا لیا، تو ایک شخص آیا اور چوری کر لی، تو اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے میری چادر چرائی ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری چادر اتنی قیمت کی نہیں تھی کہ اس میں کسی آدمی کا ہاتھ کاٹا جائے، میں نے تو اسے اس کے لیے صدقہ کر دیا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے یہ بات مجھے اسے لانے سے پہلے کیوں نہ بتائی؟“