المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
صيفي بن صهيب، عن صهيب باب: صیفی بن صہیب کی سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَبِيبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَمَّالُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ صُهَيْبٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَّ بِأَسِيرٍ لَهُ لِيَسْتَأْمِنَ لَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَصُهَيْبٌ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قَالَ: أَسِيرٌ لِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ، اسْتَأْمَنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ صُهَيْبٌ: لَقَدْ كَانَ فِي عُنُقِ هَذَا مَوْضِعٌ لِلسَّيْفِ فَغَضِبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكَ غَضْبَانَ؟» ، فَقَالَ: مَرَرْتُ بِأَسِيرِي هَذَا عَلَى صُهَيْبٍ، فَقَالَ: لَقَدْ كَانَ فِي رَقَبَةِ هَذَا مَوْضِعٌ لِلسَّيْفِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «فَلَعَلَكَ آذَيْتَهُ» . فَقَالَ: لَا، وَاللهِ، فَقَالَ: «لَوْ آذَيْتَهُ لَآذَيْتَ اللهَ وَرَسُولَهُ»سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے ایک قیدی کو لے کر گزرے تاکہ اس کے لیے رسول اللہ ﷺ سے امان مانگیں، اور صہیب رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھے تھے، تو انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: مشرکین میں سے میرا ایک قیدی ہے، میں اس کے لیے رسول اللہ ﷺ سے امان مانگ رہا ہوں۔ تو صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کی گردن میں تلوار کی جگہ تھی۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا، تو فرمایا: ”مجھے کیا ہوا کہ میں تمہیں غصے میں دیکھ رہا ہوں؟“ انہوں نے کہا: میں اپنے اس قیدی کو لے کر صہیب کے پاس سے گزرا، تو انہوں نے کہا: اس کی گردن میں تلوار کی جگہ تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم نے اسے تکلیف دی ہو۔“ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے اسے تکلیف دی ہوتی تو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دی ہوتی۔“