حدیث نمبر: 7277
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَبِيبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَمَّالُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ صُهَيْبٍ، أَنَّ الْمُشْرِكِينَ لَمَّا أَطَافُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَأَقْبَلُوا عَلَى الْغَارِ، وَأَدْبَرُوا قَالَ: وَا صُهَيْبَاهُ، وَلَا صُهَيْبَ لِي، فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمِ الْخُرُوجَ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِلَى صُهَيْبٍ، فَوَجَدَهُ يُصَلِّي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: وَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ. قَالَ: «أَصَبْتَ» ، وَخَرَجَا مِنْ لَيْلَتِهِمَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَ حَتَّى أَتَى أُمَّ رُومَانَ زَوْجَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ: أَلَا أَرَاكَ هَهُنَا، وَقَدْ خَرَجَ أَخَوَاكَ، وَوَضَعَا لَكَ شَيْئًا مِنْ زَادِهِمَا. قَالَ صُهَيْبٌ: فَخَرَجْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى زَوْجَتِي أُمِّ عُمَرَ، فَأَخَذْتُ سَيْفِي وَجُعْبَتِي وَقَوْسِي حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَأَجِدُهُ وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسَيْنِ، فَلَمَّا رَآنِي أَبُو بَكْرٍ قَامَ إِلَيَّ فَبَشَّرَنِي بِالْآيَةِ الَّتِي نَزَلَتْ فِيَّ، وَأَخَذَ بِيَدِي فَلُمْتُهُ بَعْضَ اللَّائِمَةِ فَاعْتَذَرَ، وَرَبَّحَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: «رَبِحَ الْبَيْعُ أَبَا يَحْيَى»
ترجمہ

… تو انہوں نے اسے نماز پڑھتے پایا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے کہا: میں نے اسے نماز پڑھتے پایا، تو مجھے ناپسند ہوا کہ اس کی نماز میں خلل ڈالوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا۔“ اور وہ دونوں اسی رات نکل گئے، تو جب صبح ہوئی تو وہ نکلے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی ام رومان کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: میں تمہیں یہاں کیوں دیکھ رہی ہوں، جبکہ تمہارے دونوں بھائی نکل چکے ہیں، اور انہوں نے اپنے زادِ راہ میں سے کچھ تمہارے لیے رکھا ہے۔ صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نکلا یہاں تک کہ اپنی بیوی ام عمر کے پاس گیا، تو میں نے اپنی تلوار، ترکش اور کمان لی یہاں تک کہ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا، تو میں نے آپ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بیٹھا ہوا پایا، تو جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو میری طرف کھڑے ہوئے، اور اس آیت کی خوشخبری دی جو میرے بارے میں نازل ہوئی تھی، اور میرا ہاتھ تھاما، تو میں نے انہیں کچھ ملامت کی، تو انہوں نے معذرت کی، اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے نفع بخشی کی خوشخبری دی، اور فرمایا: ”تجارت نفع بخش رہی اے ابویحییٰ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7277
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 36، حدیث 7308