المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومما أسند أنس بن مالك رضي الله عنه باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَائِرٌ، فَوَضَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي» فَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَقَّ الْبَابَ، فَقُلْتُ: ذَا؟ فَقَالَ: أَنَا عَلِيٌّ، فَقُلْتُ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَةٍ، فَرَجَعَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَجِيءُ، قَالَ: فَضَرَبَ الْبَابَ بِرِجْلِهِ فَدَخَلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَبَسَكَ؟» قَالَ: قَدْ جِئْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قُلْتُ: كُنْتُ أَرَدْتُ أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِيسیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک پرندہ بطور تحفہ دیا گیا، جسے آپ ﷺ کے سامنے رکھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اپنی مخلوق میں سے اپنے سب سے محبوب بندے کو میرے پاس بھیج دے کہ وہ میرے ساتھ کھائے۔“ اتنے میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے پوچھا: کون؟ انہوں نے کہا: میں علی ہوں۔ میں نے کہا: نبی کریم ﷺ کسی کام میں مصروف ہیں۔ وہ تین بار واپس گئے، ہر بار پھر آتے رہے۔ آخر انہوں نے پاؤں سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئے۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟“ انہوں نے کہا: میں تین بار آیا، ہر بار مجھے بتایا گیا کہ نبی کریم ﷺ مصروف ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟“ میں نے کہا: میں چاہتا تھا کہ یہ اعزاز میری اپنی قوم کے کسی فرد کو ملے۔