المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومما أسند أنس بن مالك رضي الله عنه باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 724
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ، آخَى بَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: إِنَّ لِي مَالًا فَهُوَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَطْرَانِ، وَلِيَ امْرَأَتَانِ، فَانْظُرْ أَيَّتَهُمَا أَحْبَبْتَ حَتَّى أُطَلِّقَهَا، فَإِذَا خَلَتْ فَتَزَوَّجْهَا، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي بِمَالِكَ وَأَهْلِكَ، دُلَّنِي عَلَى السُّوقِ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ بِتَمْرٍ وَأَقِطٍ قَدْ أَفْضَلَهُ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: «مَيْهَمْ؟» قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: «مَا سُقْتَ إِلَيْهَا؟» قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ - أَوْ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ - قَالَ: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ»ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: … اس نے کہا: مجھے تمہارے مال اور گھربار کی حاجت نہیں، مجھے بازار کا راستہ بتا دو۔ چنانچہ وہ گیا اور کھجوریں اور پنیر لے کر واپس آیا جس میں سے کچھ بچا بھی لیا، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اس حال میں کہ اس پر زردی کا نشان تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا معاملہ ہے؟“ اس نے کہا: میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اسے کتنا مہر دیا؟“ اس نے کہا: ایک گٹھلی کے برابر سونا - یا ایک سونے کی گٹھلی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو، چاہے ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔“