المعجم الكبير للطبراني
باب الشين— حرف شین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
شفي بن ماتع الأصبحي وقد اختلف في صحبته باب: سیدنا شُفَی بن ماتع اصبحی رضی اللہ عنہ، ان کی صحابیت میں اختلاف ہے
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ شُفَيِّ بْنِ مَاتِعٍ الْأَصْبَحِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَرْبَعَةٌ يُؤْذُونَ أَهْلَ النَّارِ عَلَى مَا بِهِمْ مِنَ الْأَذَى، يَسْعَوْنَ بَيْنَ الْحَمِيمِ وَالْجَحِيمِ , يَدْعُونَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ، يَقُولُ أَهْلُ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَا بَالُ هَؤُلَاءِ قَدْ آذَوْنَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى؟ قَالَ: فَرَجُلٌ مُغْلَقٌ عَلَيْهِ تَابُوتٌ مِنْ جَمْرٍ، وَرَجُلٌ يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ، وَرَجُلٌ يَسِيلُ فُوهُ قَيْحًا وَدَمًا، وَرَجُلٌ يَأْكُلُ لَحْمَهُ، قَالَ: فَيُقَالُ لِصَاحِبِ التَّابُوتِ: مَا بَالُ الْأَبْعَدِ قَدْ آذَانَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى؟ قَالَ: فَيَقُولُ: إِنَّ الْأَبْعَدَ مَاتَ وَفِي عُنُقَهِ أَمْوَالٌ إِلَى النَّاسِ مَا نَجِدُ لَهَا قَضَاءً أَوْ وَفَاءً، ثُمَّ يُقَالُ لِلَّذِي يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ: مَا بَالُ الْأَبْعَدِ قَدْ آذَانَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى؟ فَيُقَالُ: إِنَّ الْأَبْعَدَ كَانَ لَا يُبَالِي إِنْ أَصَابَ الْبَوْلُ مِنْهُ لَا يَغْسِلُهُ، ثُمَّ يُقَالُ لِلَّذِي يَسِيلُ فُوهُ قَيْحًا وَدَمًا: مَا بَالُ الْأَبْعَدِ قَدْ آذَانَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى؟ فَيَقُولُ: إِنَّ الْأَبْعَدَ كَانَ يَأْكُلُ لُحُومَ النَّاسِ "سیدنا شفی بن ماتع اصبحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چار لوگ ایسے ہیں جو اہل جہنم کو، باوجود اس تکلیف کے جو انہیں پہلے سے لاحق ہے، مزید تکلیف دیں گے، وہ گرم پانی اور دوزخ کی آگ کے درمیان بھاگیں گے، ہلاکت اور بربادی کی پکار کریں گے، تو اہل جہنم آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے: ان کا کیا معاملہ ہے کہ انہوں نے ہمیں، ہماری اپنی تکلیف کے باوجود، مزید اذیت دی؟ راوی کہتے ہیں: تو ان میں سے ایک شخص ہو گا جس پر آگ کا صندوق بند کر دیا گیا ہو گا، ایک شخص جو اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہو گا، ایک شخص جس کے منہ سے پیپ اور خون بہہ رہا ہو گا، اور ایک شخص جو اپنا گوشت کھا رہا ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: تو صندوق والے سے کہا جائے گا: اس دور والے کا کیا معاملہ ہے کہ اس نے ہمیں، ہماری اپنی تکلیف کے باوجود، اذیت دی؟ تو وہ کہے گا: بے شک یہ دور والا اس حال میں مرا کہ اس کے ذمے لوگوں کے مال تھے جن کی ادائیگی ہم نہیں پاتے۔ پھر اپنی آنتیں گھسیٹنے والے سے کہا جائے گا: اس دور والے کا کیا معاملہ ہے کہ اس نے ہمیں اذیت دی؟ تو کہا جائے گا: بے شک یہ دور والا پیشاب کے اپنے کپڑوں پر لگنے کی پروا نہیں کرتا تھا، اسے دھوتا نہیں تھا۔ پھر جس کے منہ سے پیپ اور خون بہہ رہا ہے اس سے کہا جائے گا: اس دور والے کا کیا معاملہ ہے کہ اس نے ہمیں اذیت دی؟ تو وہ کہے گا: بے شک یہ دور والا لوگوں کا گوشت غیبت کر کے کھایا کرتا تھا۔“