❮
❯
حدیث نمبر: 7155
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى مُزَيْنَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَهُوَ افْتَتَحَ إِيلِيَا لِمُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَهُوَ يُرَاجِعُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْإِمَارَةَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْإِمَارَةَ فَقَالَ: " أَوَّلُ الْإِمَارَةِ مَلَامَةٌ، وَثَانِيهَا نَدَامَةٌ، وَثَالِثُهَا عَذَابٌ مِنَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ رَحِمَ وَعَدَلَ، وَقَالَ: هَكَذَا وَهَكَذَا بِيَدِهِ بِالْمَالِ " ثُمَّ سَكَتَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ قَالَ: «كَيْفَ بِالْعَدْلِ مَعَ ذَوِي الْقُرْبَى؟»
ترجمہ

عنبسہ بن ابی سفیان کہتے ہیں: سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے، جو سیدنا حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے بھتیجے تھے اور جنہوں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے لیے ایلیاء (بیت المقدس) فتح کیا تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حکمرانی کا ذکر کیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو امارت کا ذکر کرتے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”امارت کی پہلی نشانی ملامت ہے، اور اس کی دوسری نشانی پشیمانی ہے، اور اس کی تیسری قیامت کے دن اللہ کی طرف سے عذاب ہے، سوائے اس کے جس نے رحم کیا اور انصاف کیا۔“ اور آپ ﷺ نے مال کے بارے میں اپنے ہاتھ سے یوں اور یوں اشارہ کیا۔ پھر آپ ﷺ جتنی دیر اللہ نے چاہا خاموش رہے، پھر فرمایا: ”قریبی رشتہ داروں کے ساتھ انصاف کیسے کیا جائے؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الشين / حدیث: 7155
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 296، حدیث 7186