حدیث نمبر: 7156
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِسَيِّدِ الِاسْتِغْفَارِ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «اللهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَعَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذُنُوبِي، فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، لَا يَقُولُهَا أَحَدٌ حِينَ يُمْسِي، فَيَمُوتُ مِنْ لَيْلَتِهِ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَلَا يَقُولُهَا أَحَدٌ حِينَ يُصْبِحُ فَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ»
ترجمہ

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے بہترین استغفار نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”’اے اللہ! تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں اپنی طاقت بھر تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں نے جو کچھ کیا اس کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کا بھی اقرار کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، بے شک تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔‘ جو شخص شام کے وقت یہ کہے اور اسی رات فوت ہو جائے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے، اور جو صبح کے وقت یہ کہے اور اسی دن اسے موت آ جائے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الشين / حدیث: 7156
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 296، حدیث 7187