حدیث نمبر: 7113
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نَسِيٍّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالَ: حَدِيثَانِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا هُمَا؟ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ فِي وَجْهِهِ شَيْئًا سَاءَنِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذَا الَّذِي أَرَى فِي وَجْهِكَ؟ قَالَ: «أَمْرَانِ أَتَخَوَّفُهُمَا عَلَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي، الشِّرْكُ , وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ، أَمَّا إِنَّهُمْ لَا يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا حَجَرًا وَلَا وَثَنًا، وَلَكِنَّهُمْ يُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَشِرْكٌ ذَاكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» , قُلْتُ: وَمَا الشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ؟ قَالَ: «يُصْبِحُ الْعَبْدُ صَائِمًا، فَتَعْرِضُ لَهُ شَهْوَةٌ مِنْ شَهَوَاتِهِ فَيُوَاقِعُهَا وَيَدَعُ صَوْمَهُ»
ترجمہ

… میں نے عرض کیا: وہ دو باتیں کیا ہیں؟ راوی نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، تو میں نے آپ ﷺ کے چہرے پر کچھ ایسا دیکھا جس نے مجھے غمگین کر دیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے چہرے پر یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو باتیں ہیں جن کا مجھے اپنے بعد اپنی امت پر خوف ہے: شرک اور پوشیدہ خواہش۔ سنو! وہ لوگ سورج، چاند، پتھر یا بت کی پرستش نہیں کریں گے، بلکہ وہ اپنے اعمال میں دکھاوا کریں گے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ شرک ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: پوشیدہ خواہش کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بندہ روزے کی حالت میں صبح کرتا ہے، پھر اسے اپنی کسی خواہش کا سامنا ہوتا ہے تو وہ اسے پورا کر لیتا ہے اور اپنا روزہ چھوڑ دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الشين / حدیث: 7113
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 284، حدیث 7144