❮
❯
حدیث نمبر: 7076
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ النَّهَارِ: الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، وَهُوَ حَامِلٌ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ، فَتَقَدَّمَ فَوَضَعَهُ عِنْدَ قَدَمِهِ الْيُمْنَى، فَسَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَةً فَأَطَالَهَا، فَرَفَعْتُ رَأْسِيَ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ، وَإِذَا الْغُلَامُ رَاكِبٌ ظَهْرَهُ، فَعُدْتُ فَسَجَدْتُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَاسٌ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقَدْ سَجَدْتَ فِي صَلَاتِكَ هَذِهِ سَجْدَةً مَا كُنْتَ تَسْجُدُهَا، أَشَيْئًا أُمِرْتَ بِهِ؟ أَوْ كَانَ يُوحَى إِلَيْكَ؟ قَالَ: «كُلٌّ لَمْ يَكُنْ، وَلَكِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي، فَكَرِهْتُ أَنْ أُعْجِلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ»
ترجمہ

سیدنا شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ دن کی دو نمازوں میں سے کسی ایک نماز میں، ظہر یا عصر، ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ﷺ سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو اٹھائے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ آگے بڑھے اور انہیں اپنے دائیں قدم کے پاس رکھ دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک سجدہ کیا اور اسے لمبا کر دیا، تو میں نے لوگوں کے درمیان اپنا سر اٹھایا، تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ سجدے میں ہیں، اور وہ بچہ آپ ﷺ کی پیٹھ پر سوار ہے، تو میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے اپنی اس نماز میں ایک ایسا سجدہ کیا جو آپ پہلے کبھی نہیں کرتے تھے، کیا آپ کو اس کا حکم دیا گیا تھا؟ یا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی بات نہ تھی، بلکہ میرے بیٹے (نواسے) نے مجھ پر سواری کر لی تھی، تو میں نے ناپسند کیا کہ اسے جلدی اتاروں یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کر لے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الشين / حدیث: 7076
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 270، حدیث 7107