المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
صفة أنس بن مالك وهيأته رضي الله عنه باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا حلیہ اور وضع قطع
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الذِّرَاعُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْقَصْرِ مَعَ الْحَجَّاجِ، وَهُوَ يَعْرِضُ النَّاسَ مِنْ أَجْلِ ابْنِ الْأَشْعَثِ، فَجَاءَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ حَتَّى دَنَا، فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: هِيهِ يَا خِبْثَةُ، جَوَّالٌ فِي الْفِتْنَةِ مَرَّةً مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَمَرَّةً مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَمَرَّةً مَعَ ابْنِ الْأَشْعَثِ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَسْتَأْصِلَنَّكَ كَمَا تُسْتَأْصَلُ الصَّمْغَةُ، وَلَأُجَرِّدَنَّكَ كَمَا يُجَرَّدُ الضَّبُّ، فَقَالَ: مَنْ يَعْنِي الْأَمِيرُ أَصْلَحَهُ اللهُ؟ قَالَ الْحَجَّاجُ: إِيَّاكَ أَعْنِي، أَصَمَّ اللهُ سَمْعَكَ، فَاسْتَرْجَعَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «إِنَّا لِلَّهِ، وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ثُمَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ: «لَوْلَا أَنِّي ذَكَرْتُ وَلَدِي فَخَشِيتُهُ عَلَيْهِمْ، لَكَلَّمْتُهُ فِي مَقَامِي بِكَلَامٍ لَا يَسْتَجِيبُنِي بَعْدَهُ أَبَدًا»علی بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں حجاج کے ساتھ محل میں تھا اور وہ ابن اشعث کے معاملے کی وجہ سے لوگوں کا معائنہ کر رہا تھا۔ اتنے میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ آئے حتیٰ کہ قریب پہنچے، تو حجاج نے ان سے کہا: ارے او خبیث! کبھی سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ فتنے میں گھومنے والے، کبھی ابن زبیر کے ساتھ، اور کبھی ابن اشعث کے ساتھ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہیں اسی طرح جڑ سے اکھاڑ پھینکوں گا جیسے گوند کا درخت سے اکھاڑا جاتا ہے، اور تمہاری کھال اسی طرح ادھیڑ دوں گا جیسے سانڈے کی کھال ادھیڑی جاتی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر (اللہ اس کی اصلاح کرے) کس کی بات کر رہے ہیں؟ حجاج نے کہا: میں تمہیں ہی کہہ رہا ہوں، اللہ تمہاری سماعت بہری کر دے۔ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے استرجاع کیا اور فرمایا: ”انا للہ وانا الیہ راجعون۔“ پھر ان کے پاس سے نکلے، تو فرمایا: ”اگر مجھے اپنی اولاد یاد نہ آتی اور مجھے ان کے بارے میں خدشہ نہ ہوتا، تو میں اس مجلس میں اس سے ایسی بات کہتا کہ وہ کبھی میرا جواب نہ دے سکتا۔“