حدیث نمبر: 699
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ الْقَاضِي الرَّامَهُرْمُزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَوَّاتِ بْنِ شُعْبَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " دَخَلْتُ دَارَ أَبِي طَلْحَةَ، وَهُوَ مُغْلِقُ الْبَابِ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَهُوَ يَضْرِبُهَا، وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ، فَنَادَيْتُ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذِهِ الْعَجُوزِ تَضْرِبُهَا، فَنَادَتْنِي مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ، فَقَالَتْ: تَقُولُ لِيَ: الْعَجُوزُ، عَجَّزَ اللهُ رُكْنَكَ "
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوا، وہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا پر - جو انس کی والدہ تھیں - دروازہ بند کیے انہیں مار رہے تھے، تو میں نے دروازے کے پیچھے سے پکار کر کہا: تم اس بڑھیا کو کیوں مار رہے ہو؟ تو میری والدہ نے دروازے کے پیچھے سے مجھے پکار کر کہا: تم مجھے ”بڑھیا“ کہتے ہو؟ اللہ تمہارے بازو کو کمزور کرے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 699
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 247، حدیث 703