حدیث نمبر: 687
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، دَخَلَ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ الشِّعْرَ، فَقَالَ لَهُ: «أَخِي، أَمَا عَلَّمَكَ اللهُ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ هَذَا؟» ، زَادَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ لَهُ الْبَرَاءُ: «أَتَخْشَى عَلَيَّ أَنْ أَمُوتَ عَلَى فِرَاشِي، وَاللهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ بَلَاءَ اللهِ إِيَّايَ، فَقَدْ قَتَلْتُ مِائَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ، مِنْهُمْ مَنْ تَفَرَّدْتُ بِقَتْلِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ شَارَكْتُ فِيهِ»
ترجمہ

…محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ وہ شعر پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے کہا: میرے بھائی! کیا اللہ نے تمہیں ایسی چیز نہیں سکھائی جو اس سے بہتر ہو؟
موسیٰ بن اسماعیل نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ براء نے ان سے کہا: ”کیا تمہیں مجھ سے یہ خدشہ ہے کہ میں اپنے بستر پر مروں گا؟ اللہ کی قسم! اللہ کا مجھ پر یہ امتحان نہیں ہوگا، میں نے سو مشرکوں کو قتل کیا ہے، ان میں سے کچھ کو اکیلے قتل کیا اور کچھ کے قتل میں (دوسروں کے ساتھ) شریک رہا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 687
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 245، حدیث 691