حدیث نمبر: 675
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، قَالَ: كَانَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَجْلِسُ، وَيُطْرَحُ لَهُ فِرَاشٌ يَجْلِسُ عَلَيْهِ، وَيَرْمِي وَلَدَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَوْمًا وَنَحْنُ نَرْمِي، فَقَالَ: «يَا بَنِيَّ، بِئْسَ مَا تَرْمُونَ» ثُمَّ أَخَذَ فَرَمَى «فَمَا أَخْطَأَ الْقِرْطَاسَ»
ترجمہ

…میرے والد ثمامہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیٹھتے تو ان کے لیے ایک بستر بچھا دیا جاتا جس پر وہ بیٹھتے، اور ان کی اولاد ان کے سامنے نشانہ بازی کرتی، ایک دن وہ ہمارے پاس نکل کر آئے جبکہ ہم نشانہ بازی کر رہے تھے، تو فرمایا: ”اے میرے بچو! تم کتنا برا نشانہ لگا رہے ہو۔“ پھر انہوں نے خود (تیر) لیا اور نشانہ لگایا، تو نشانے سے نہ چوکے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 675
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 243، حدیث 679