حدیث نمبر: 6725
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا سَعِيدٌ الْوَرَّاقُ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «هَهُنَا أَحَدٌ مِنْ آلِ فُلَانٍ؟» قَالَ: فَلَمْ يَقُمْ أَحَدٌ، حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُومَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ؟ أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِاسْمِكَ إِلَّا لَخَيْرٍ، إِنَّ فُلَانًا رَجُلٌ مَاتَ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ» قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَهْلَهُ وَمَنْ يَحْزَنُ بِأَمْرِهِ , قَالَ: فَقَضَوْا مَا عَلَيْهِ حَتَّى مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ
ترجمہ

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جنازے کی نماز پڑھائی، پھر جب فارغ ہوئے تو فرمایا: ”یہاں آل فلاں میں سے کوئی ہے؟“ کہتے ہیں: کوئی کھڑا نہ ہوا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا، تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ، میں حاضر ہوں، تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”پہلی دو بار کھڑے ہونے سے تمہیں کس چیز نے روکا؟ سنو، میں نے تمہارا نام خیر ہی کے لیے لیا ہے، فلاں شخص اپنے قرض میں گرفتار ہو کر فوت ہوا۔“ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ اس کے گھر والے اور جو کوئی اس کے معاملے سے غمگین تھا (سب متوجہ ہوئے)، کہتے ہیں: چنانچہ انہوں نے اس کا قرض ادا کر دیا یہاں تک کہ اس پر کچھ باقی نہ رہا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6725
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 179، حدیث 6755