حدیث نمبر: 6724
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: «هَهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟» فَسَكَتَ الْقَوْمُ، وَكَانَ إِذَا ابْتَدَأَهُمْ بِشَيْءٍ سَكَتُوا، ثُمَّ قَالَ: «هَهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟» فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: هَذَا فُلَانٌ، قَالَ: «إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَحْبُوسٌ دُونَ الْجَنَّةِ بِدَيْنِهِ» فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: عَلَيَّ دَيْنُهُ
ترجمہ

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: ”یہاں فلاں قبیلے کا کوئی شخص ہے؟“ تو لوگ خاموش رہے، اور آپ ﷺ کا معمول تھا کہ جب آپ کسی بات کا آغاز فرماتے تو لوگ خاموش ہو جاتے، پھر آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا: ”یہاں فلاں قبیلے کا کوئی شخص ہے؟“ تو ایک شخص نے کہا: یہ فلاں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا ساتھی اپنے قرض کی وجہ سے جنت سے پہلے روکا ہوا ہے۔“ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اس کا قرض میرے ذمے ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6724
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 179، حدیث 6754