حدیث نمبر: 6722
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: «هَهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ؟» فَنَادَى ثَلَاثًا لَا يُجِيبُهُ أَحَدٌ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا أَجَابَهُ، فَقَالَ: «سَمِعْتَ نِدَائِي؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «إِنَّ فُلَانًا الَّذِي تُوُفِّيَ مِنْكُمْ قَدِ احْتَبَسَ عَنِ الْجَنَّةِ، مِنْ أَجْلِ الدَّيْنِ الَّذِي عَلَيْهِ، فَإِنْ شِئْتُمْ فَافْدُوهُ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَأَسْلِمُوهُ إِلَى عَذَابِ اللهِ»
ترجمہ

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: ”کیا یہاں بنو نجار میں سے کوئی ہے؟“ آپ ﷺ نے تین بار پکارا مگر کسی نے جواب نہ دیا، پھر ایک شخص نے آپ ﷺ کو جواب دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے میری پکار سنی؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے فلاں شخص جس کا انتقال ہو چکا ہے، وہ اپنے ذمے قرض کی وجہ سے جنت سے روک دیا گیا ہے، اگر تم چاہو تو اسے چھڑا لو، اور اگر چاہو تو اسے اللہ کے عذاب کے سپرد کر دو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6722
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 178، حدیث 6752