المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الزهري عن السائب بن يزيد باب: زہری کی سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَتِ الدِّيَةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ: أَرْبَعَةَ أَسْنَانٍ، خَمْسَةً وَعِشْرِينَ حِقَّةً، وَخَمْسَةً وَعِشْرِينَ جَذَعَةً، وَخَمْسَةً وَعِشْرِينَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَخَمْسَةً وَعِشْرِينَ بَنَاتِ مَخَاضٍ حَتَّى كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَمَصَّرَ الْأَمْصَارَ قَالَ عُمَرُ: «لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُونَ الْإِبِلَ، فَقَوِّمُوا الْإِبِلَ أُوقِيَّةً أُوقِيَّةً» ، فَكَانَتْ أَرْبَعَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «قَوِّمُوا الْإِبِلَ» ، فَقُوِّمَتِ الْإِبِلُ أُوقِيَّةً وَنِصْفًا، فَكَانَتْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ: «قَوِّمُوا الْإِبِلَ» ، فَقُوِّمَتْ أُوقِيَّتَيْنِ فَكَانَتْ ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «قَوِّمُوا الْإِبِلَ» ، فَقُوِّمَتْ ثَلَاثَةَ أَوَاقٍ، فَكَانَتِ اثْنَتَيْ عَشَرَ أَلْفًا، فَجَعَلَ عَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَعَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِئَتَيْ حُلَّةٍ قِيمَةُ كُلِّ حُلَّةٍ خَمْسَةُ دَنَانِيرَ، وَعَلَى أَهْلِ الضَّأْنِ أَلْفَ ضَائِنَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَعْزِ أَلْفَ مَاعِزَةٍ، وَعَلَى الْبَقَرِ مِئَتَيْ بَقَرَةٍ(سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) …پچیس حِقّہ (تین سالہ) اونٹنیاں، پچیس جذعہ (چار سالہ) اونٹنیاں، پچیس بنتِ لبون (دو سالہ) اونٹنیاں، اور پچیس بنتِ مخاض (ایک سالہ) اونٹنیاں (دیت میں مقرر تھیں)، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور انہوں نے شہر آباد کیے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سب لوگوں کو اونٹ میسر نہیں آتے، تو اونٹوں کی قیمت اوقیہ کے حساب سے لگاؤ۔“ تو وہ چار ہزار درہم مقرر ہوئی۔ پھر اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اونٹوں کی دوبارہ قیمت لگاؤ۔“ تو ڈیڑھ اوقیہ کے حساب سے قیمت لگائی گئی، جو چھ ہزار درہم ہوئی۔ پھر اونٹوں کی قیمت پھر بڑھ گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اونٹوں کی قیمت لگاؤ۔“ تو دو اوقیہ کے حساب سے قیمت لگائی گئی، جو آٹھ ہزار درہم ہوئی۔ پھر اونٹوں کی قیمت پھر بڑھ گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اونٹوں کی قیمت لگاؤ۔“ تو تین اوقیہ کے حساب سے قیمت لگائی گئی، جو بارہ ہزار درہم ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے چاندی والوں پر بارہ ہزار درہم، اونٹ والوں پر سو اونٹ، سونے والوں پر ایک ہزار دینار، جوڑے والوں پر دو سو جوڑے مقرر کیے جن میں سے ہر جوڑے کی قیمت پانچ دینار تھی، بھیڑ والوں پر ایک ہزار بھیڑیں، بکری والوں پر ایک ہزار بکریاں، اور گائے والوں پر دو سو گائیں مقرر کیں۔