المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الربيع بن سبرة عن أبيه باب: ربیع بن سبرہ کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ غَزِيَّةَ، يُحَدِّثُ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَهُمْ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي، وَمَعِي بُرْدٌ قَدْ مُسَّ مِنْهُ، وَمَعَ ابْنِ عَمِّي بُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ، وَأَنَا جَمِيلٌ فَاضِلُ الْجَمَالِ عَنِ ابْنِ عَمِّي، وَابْنُ عَمِّي دُونِي فِي الْجَمَالِ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَعْلَى مَكَّةَ أَوْ بِأَسْفَلِهَا لَقِيَتْنَا فَتَاةٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ مِثْلُ الْبَكْرَةِ، فَقُلْنَا: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا , أَوْ قَدْ أَذِنَ لَنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ مِنَ النِّسَاءِ» ، فَهَلْ لَكِ فِي أَحَدِنَا؟ قَالَتْ: أَوَفَعَلَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَنَشَرْنَا بُرْدَيْنَا، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى الْبُرْدَيْنِ، ثُمَّ تَنْظُرُ إِلَيَّ , وَإِلَى ابْنِ عَمِّي، فَإِذَا رَآهَا ابْنُ عَمِّي تَنْظُرُ إِلَيَّ عَطِفَهَا، قَالَ: إِنَّ بُرْدِي هَذَا جَدِيدٌ غَضٌّ وَبُرْدَ ابْنِ عَمِّي خَلِقٌ قَدْ مُسَّ مِنْهُ، وَتَقُولُ الْفَتَاةُ: وَبُرْدُ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ، فَكَرَّرَ ذَلِكَ الْقَوْلَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ اخْتَارَتْنِي، ثُمَّ لَمْ نَخْرُجْ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(سیدنا سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) اور میرا چچا زاد بھائی مجھ سے کم خوبصورت تھا، ہم نکلے یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے بالائی یا زیریں حصے میں پہنچے تو بنو عامر بن صعصعہ کی ایک نوجوان لڑکی، جو جوان اونٹنی کی طرح تروتازہ تھی، ہم سے ملی، ہم نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے، یا ہمیں اجازت دی ہے کہ ہم عورتوں سے متعہ کریں، تو کیا تمہیں ہم میں سے کسی میں رغبت ہے؟ اس نے کہا: کیا واقعی ایسا ہوا ہے؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ تو ہم نے اپنی دونوں چادریں پھیلائیں، وہ دونوں چادروں کو دیکھنے لگی، پھر مجھے اور میرے چچا زاد بھائی کو دیکھنے لگی، جب میرے چچا زاد بھائی نے دیکھا کہ وہ مجھے دیکھ رہی ہے تو اسے متوجہ کرنے کی کوشش کی اور کہا: میری یہ چادر نئی اور تازہ ہے، جبکہ میرے چچا زاد کی چادر پرانی ہے جو استعمال ہو چکی ہے، تو لڑکی نے کہا: اس کی چادر بھی ٹھیک ہے، اس نے یہ بات ایک دو بار دہرائی، پھر بالآخر مجھے پسند کر لیا، پھر ہم مکہ سے نکلنے بھی نہ پائے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے حرام کر دیا۔