المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الربيع بن سبرة عن أبيه باب: ربیع بن سبرہ کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ، فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا، فَقَالَتْ: مَا تُعْطِينَا؟ فَقُلْتُ: رِدَائِي، وَقَالَ صَاحِبِي: رِدَائِي، وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي، وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ، فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا، وَإِذَا نَظَرَتْ إِلَيَّ أَعْجَبْتُهَا، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ يَكْفِينِي، فَمَكَثْتُ مَعَهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ اللَّاتِي يَتَمَتَّعُ بِهِنَّ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا» ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍسیدنا سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں متعہ کی اجازت دی، تو میں اور ایک آدمی بنو عامر کی ایک عورت کے پاس گئے، جو گویا لمبی گردن والی نوجوان اونٹنی تھی، ہم نے اس کے سامنے خود کو پیش کیا، اس نے کہا: تم ہمیں کیا دو گے؟ میں نے کہا: اپنی چادر، اور میرے ساتھی نے کہا: اپنی چادر، اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے بہتر تھی، جبکہ میں اس سے زیادہ جوان تھا، جب وہ میرے ساتھی کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے اچھی لگتی، اور جب مجھے دیکھتی تو میں اسے پسند آتا، پھر اس نے کہا: تم اور تمہاری چادر مجھے کافی ہیں، تو میں تین دن اس کے پاس رہا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس ان عورتوں میں سے کوئی ہو جن سے متعہ کیا جاتا ہے وہ اسے چھوڑ دے۔“ (یہ الفاظ یحییٰ بن بکیر کی روایت کے ہیں۔)