حدیث نمبر: 6484
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ , حَتَّى إِذَا كُنَّا بِعُسْفَانَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ، فَقَالَ لَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَلِّمْنَا تَعْلِيمَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا , أَمْ لِأَبَدٍ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ لِأَبَدٍ» ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَمَرَنَا بِمُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: إِنَّهُنَّ قَدْ أَبْيَنَ إِلَّا إِلَى أَجْلٍ مُسَمًّى، قَالَ: «فَافْعَلُوا» ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي , عَلَيَّ بُرْدٌ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ، فَدَخَلْنَا عَلَى امْرَأَةٍ، فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى بُرْدِ صَاحِبِي , فَتَرَاهُ أَجْوَدَ مِنْ بُرْدِي، وَتَنْظُرُ إِلَيَّ , فَتَرَانِي أَشَبَّ مِنْهُ، فَقَالَتْ: بُرْدٌ مَكَانَ بُرْدٍ، وَاخْتَارَتْنِي، فَتَزَوَّجْتُهَا بِبُرْدِي، فَبِتُّ مَعَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ كَانْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجْلٍ فَلْيُعْطِهَا مَا سَمَّى لَهَا، وَلَا يَسْتَرْجِعْ مِمَّا أَعْطَاهَا شَيْئًا، وَيُفَارِقُهَا، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَهَا عَلَيْكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ

سیدنا سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں مدینہ سے نکلے، یہاں تک کہ جب ہم عسفان پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل کر دیا گیا ہے۔“ اس پر سراقہ بن مالک نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ایسی تعلیم دیجیے جیسے ہم آج ہی پیدا ہوئے ہوں، کیا ہمارا یہ عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر آپ ﷺ نے ہمیں عورتوں سے متعہ کرنے کا حکم دیا، ہم آپ ﷺ کے پاس واپس آئے اور عرض کیا: انہوں نے انکار کر دیا سوائے اس کے کہ ہمارے اور ان کے درمیان ایک مقررہ مدت طے کی جائے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا ہی کرو۔“ چنانچہ میں اور میرا ایک ساتھی نکلے، میرے پاس ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی، ہم ایک عورت کے پاس گئے اور اسے اپنے بارے میں پیشکش کی، وہ میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو اسے میری چادر سے بہتر پاتی، اور مجھے دیکھتی تو مجھے اس سے زیادہ جوان پاتی، تو اس نے کہا: چادر کے بدلے چادر، اور اس نے مجھے پسند کر لیا، تو میں نے اسے اپنی چادر کے عوض نکاح میں لے لیا، اور اس رات اس کے پاس رہا، جب صبح ہوئی تو میں صبح سویرے مسجد کی طرف گیا، وہاں رسول اللہ ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے کسی عورت سے ایک مقررہ مدت تک نکاح کیا ہو وہ اسے وہ مہر دے دے جو اس کے لیے مقرر کیا تھا، اور جو کچھ اسے دیا ہے اس میں سے کچھ واپس نہ لے، اور اس سے جدا ہو جائے، کیونکہ اللہ عزوجل نے اسے تم پر قیامت تک کے لیے حرام کر دیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6484
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 108، حدیث 6514