حدیث نمبر: 6483
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَتَّى نَزَلُوا عُسْفَانَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، وَقَامَ إِلَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يُقَالُ لَهُ: سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْضِ لَنَا قَضَاءَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَدْخَلَ عَلَيْكُمْ فِي حَجَّتِكُمْ هَذِهِ عُمْرَةً، فَإِذَا أَنْتُمْ قَدِمْتُمْ , فَمَنْ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدْ أَحَلَّ , إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ» ، فَلَمَّا أَحْلَلْنَا , قَالَ: «اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ» , وَالِاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا التَّزْوِيجُ، فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ، فَأَبَيْنَ إِلَّا أَنْ يَضْرِبْنَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «افْعَلُوا» فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي , وَمَعِي بُرْدٌ , وَمَعَهُ بُرْدٌ، وَبُرْدُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدِي، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ، فَأَتَيْنَا امْرَأَةً، فَأَعْجَبَهَا بُرْدُهُ، وَأَعْجَبَهَا سِمَاتِي، ثُمَّ صَارَ شَأْنُهَا أَنْ قَالَتْ: هَاتِ بُرْدَكَ، وَكَانَ الْأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا، فَبِتُّ عِنْدَهَا , ثُمَّ أَصْبَحْتُ، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ، وَهُوَ يَقُولُ: «أَيُّهَا النَّاسُ، كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ، أَلَا وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا، وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا»
ترجمہ

(سیدنا سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ) بنو مدلج کے ایک آدمی نے، جسے سراقہ بن مالک بن جعشم کہا جاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے ایسا فیصلہ فرما دیجیے جیسے ہم آج ہی پیدا ہوئے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل نے تمہارے اس حج میں عمرہ داخل کر دیا ہے، تو جب تم پہنچو تو جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے وہ حلال ہو جائے، سوائے اس کے جس کے ساتھ ہدی (قربانی کا جانور) ہو۔“ جب ہم حلال ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان عورتوں سے متعہ کر لو“ اور ہمارے نزدیک متعہ اس وقت عارضی نکاح ہی تھا، ہم نے یہ بات عورتوں کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس کے سوا انکار کیا کہ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی مدت طے کی جائے، یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا ہی کرو۔“ چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد بھائی نکلے، میرے پاس ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی، اور اس کی چادر میری چادر سے بہتر تھی، جبکہ میں اس سے زیادہ جوان تھا، ہم ایک عورت کے پاس آئے تو اسے اس کی چادر پسند آئی اور میری صورت بھی پسند آئی، پھر اس نے کہا: اپنی چادر لے آؤ، میرے اور اس کے درمیان دس دن کی مدت طے ہوئی، تو میں اس رات اس کے پاس رہا، پھر صبح ہوئی تو میں مسجد کی طرف نکلا، وہاں رسول اللہ ﷺ رکن اور دروازے کے درمیان کھڑے یہ فرما رہے تھے: ”لوگو! میں نے تمہیں ان عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی، خبردار! اللہ عزوجل نے اسے قیامت تک کے لیے حرام کر دیا ہے، تو جس کے پاس ان میں سے کوئی عورت ہو وہ اسے چھوڑ دے، اور جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6483
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 107، حدیث 6513