المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن أخبار الأشعث بن قيس باب: سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے کچھ واقعات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: لَمَّا قُدِمَ بِالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ أَسِيرًا عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَطْلَقَ وِثَاقَهُ وَزَوَّجَهُ أُخْتَهُ، فَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ، وَدَخَلَ سُوقَ الْإِبِلِ، فَجَعَلَ لَا يَرَى جَمَلًا وَلَا نَاقَةً إِلَّا عَرْقَبَهُ، وَصَاحَ النَّاسُ: كَفَرَ الْأَشْعَثُ، فَلَمَّا فَرَغَ، طَرَحَ سَيْفَهُ، وَقَالَ: «إِنِّي وَاللهِ مَا كَفَرْتُ، وَلَكِنْ زَوَّجَنِي هَذَا الرَّجُلُ أُخْتَهُ، وَلَوْ كُنَّا فِي بِلَادِنَا كَانَتْ لَنَا وَلِيمَةٌ غَيْرَ هَذِهِ، يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، انْحَرُوا وَكُلُوا، وَيَا أَصْحَابَ الْإِبِلِ، تَعَالَوْا خُذُوا شَرْوَاهَا»قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کو قیدی بنا کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے ان کی رسی کھول دی اور اپنی بہن کا ان سے نکاح کر دیا۔ انہوں نے اپنی تلوار میان سے نکالی اور اونٹوں کے بازار میں داخل ہو گئے، پھر جو بھی اونٹ یا اونٹنی نظر آتی اس کی کونچیں کاٹ دیتے، لوگ چلانے لگے: اشعث کافر ہو گیا! جب وہ فارغ ہوئے تو تلوار پھینک دی اور کہا: ”اللہ کی قسم! میں کافر نہیں ہوا، بلکہ اس شخص نے مجھ سے اپنی بہن کا نکاح کیا ہے، اور اگر ہم اپنے علاقے میں ہوتے تو ہماری ولیمہ اس سے مختلف ہوتی، اے اہلِ مدینہ! ذبح کرو اور کھاؤ، اور اے اونٹوں والو! آؤ اور ان کے بدلے میں (نئے اونٹ) لے لو۔“