حدیث نمبر: 6449
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ سَوَادَ بْنَ عَمْرٍو كَانَ رَجُلًا جَمِيلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُعْطِيتُ مِنَ الْحُسْنِ وَالْجَمَالِ، وَحُبِّبَ إِلَيَّ، فَلَا أُحِبُّ أَنْ يَفْضُلَنِي أَحَدٌ بِشِرَاكِ نَعْلِي، أَفَمِنَ الْكِبْرِ هُوَ؟ قَالَ: «لَا , وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ بَطِرَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ»
ترجمہ

سیدنا سواد بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ ایک خوبصورت آدمی تھے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے حسن و جمال عطا کیا گیا ہے اور یہ مجھے پسند دلایا گیا ہے، تو مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی جوتے کے تسمے میں بھی مجھ پر برتری لے جائے، تو کیا یہ تکبر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تکبر یہ ہے کہ آدمی حق کو ٹھکرائے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6449
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 97، حدیث 6479