المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جمهان، عن سفينة باب: سعید بن جمہان کی سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، أَنَّ رَجُلًا دَعَاهُ عَلِيٌّ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَلَوْ دَعَوْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَجُلًا، فَجَاءَ، فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ، فَرَأَى قِرَامًا فِي نَاحِيَتَيِ الْبَيْتِ، فَرَجَعَ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اتَّبِعْهُ، فَانْظُرْ مَا رَجَعَهُ، فَتَبِعَهُ، فَقَالَ: مَا رَدَّكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لَيْسَ لِي أَنْ أَدْخَلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا»سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دعوت کی اور اس کے لیے کھانا تیار کیا، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر ہم نبی کریم ﷺ کو بھی بلا لیں تو آپ ﷺ ہمارے ساتھ کھانا کھا لیں۔ چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کی طرف ایک آدمی بھیجا، آپ ﷺ تشریف لائے اور دروازے کے دونوں بازو پکڑے تو گھر کے دونوں کناروں پر ایک پردہ (نقش و نگار والا) دیکھا تو واپس لوٹ گئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ان کے پیچھے جاؤ اور دیکھو کہ وہ کیوں واپس لوٹے۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کے پیچھے گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو کس چیز نے واپس لوٹایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے لیے مناسب نہیں کہ میں نقش و نگار والے گھر میں داخل ہوں۔“