المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن عن عمه عبد الرحمن بن أبي ليلى باب: عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمن کی اپنے چچا عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا بَشَّارُ بْنُ مُوسَى الْخَفَّافُ، ثنا خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَصَابَنَا عَطَشٌ شَدِيدٌ، فَشَكَوْنَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَلْ فَضْلَةُ مَاءٍ فِي إِدَاوَةٍ» ؟ فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِفَضْلَةِ مَاءٍ فِي إِدَاوَةٍ، فَحَفَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ حُفْرَةً , وَضَعَ عَلَيْهَا نِطَعًا، وَوَضَعَ كَفَّهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِ الْإِدَاوَةِ: «صُبِّ الْمَاءَ عَلَى كَفِّي، وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ» فَفَعَلَ، قَالَ أَبُو لَيْلَى: «قَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَوَى الْقَوْمُ، وَسُقُوا كُلُّهُمْ»سیدنا ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، تو ہمیں شدید پیاس لگی، ہم نے نبی کریم ﷺ سے اس کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا کسی کے پاس مشک میں کچھ بچا ہوا پانی ہے؟“ تو ایک شخص مشک میں تھوڑا سا پانی لے آیا، تو نبی کریم ﷺ نے زمین میں ایک گڑھا کھودا اور اس پر ایک چمڑے کا دستر خوان رکھا، اور اپنی ہتھیلی زمین پر رکھی، پھر مشک والے شخص سے فرمایا: ”میری ہتھیلی پر پانی ڈالو اور اللہ کا نام لو۔“ اس نے ایسا کیا۔ ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ پانی رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا یہاں تک کہ لوگ سیر ہو گئے اور سب نے پانی پیا۔