المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن عن عمه عبد الرحمن بن أبي ليلى باب: عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمن کی اپنے چچا عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا حَرْبُ بْنُ الْحَسَنِ الطَّحَّانُ، ثنا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ , فَقَالَ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ فِي الْأَرَاكِ، فَدَخَلْنَا فَأَخَذْنَاهُ، فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ يَجِيئُونَهُ , يُخْفُونَ سُيُوفَهُمْ , حَتَّى جَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ: «وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , فَأَسْلِمُوا تَسْلَمُوا» ، وَكَانَ الْعَبَّاسُ لَهُ صَدِيقًا، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ الصَّوْتَ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي بِمَكَّةَ: «مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى سِلَاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ» , ثُمَّ بَعَثَ مَعَهُ الْعَبَّاسَ حَتَّى جَلَسَا عَلَى عَقَبَةِ الثَّنِيَّةِ، فَأَقْبَلَتْ بَنُو سُلَيْمٍ، فَقَالَ: يَا عَبَّاسُ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَذِهِ بَنُو سُلَيْمٍ، فَقَالَ: وَمَا أَنَا وَسَلِيمٌ؟ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَالْمُهَاجِرُونَ فَقَالَ: يَا عَبَّاسُ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فِي الْمُهَاجِرِينَ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا عَبَّاسُ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْمَوْتُ الْأَحْمَرُ، هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَنْصَارِ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: لَقَدْ رَأَيْتَ مُلْكَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ، فَمَا رَأَيْتُ مِثْلَ مُلْكِ ابْنِ أَخِيكَ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: إِنَّمَا هِيَ النُّبُوَّةُراوی بیان کرتے ہیں: ہم اندر داخل ہوئے اور انہیں پکڑ لیا، تو مسلمان اپنی تلواریں چھپائے ہوئے ان کے پاس آنے لگے، یہاں تک کہ وہ انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم پر افسوس ہو، اے ابوسفیان! میں تمہارے پاس دنیا اور آخرت کی کامیابی لے کر آیا ہوں، اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ان کے دوست تھے، تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوسفیان ایسے شخص ہیں جو شہرت پسند کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں ایک منادی بھیجا جو یہ اعلان کر رہا تھا: ”جو اپنا دروازہ بند کر لے وہ محفوظ ہے، اور جو اپنا ہتھیار ڈال دے وہ محفوظ ہے، اور جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے وہ محفوظ ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا، یہاں تک کہ وہ دونوں گھاٹی کے موڑ پر بیٹھ گئے، پھر بنو سلیم آئے، تو ابوسفیان نے پوچھا: اے عباس! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ بنو سلیم ہیں۔ اس نے کہا: مجھے سلیم سے کیا تعلق؟ پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور مہاجرین آئے، تو ابوسفیان نے پوچھا: اے عباس! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ علی بن ابی طالب مہاجرین کے ساتھ ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ انصار کے ساتھ تشریف لائے، تو ابوسفیان نے پوچھا: اے عباس! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ سرخ موت ہیں، یہ رسول اللہ ﷺ ہیں انصار کے ساتھ۔ تو ابوسفیان نے کہا: میں نے کسریٰ اور قیصر کی بادشاہت دیکھی ہے، مگر میں نے اپنے بھتیجے کی بادشاہت جیسی کوئی بادشاہت نہیں دیکھی۔ عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: یہ بادشاہت نہیں بلکہ نبوت ہے۔