المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من أخبار سالم ووفاته باب: سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے واقعات اور وفات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، وَكَانَ قَدْ تَبَنَّى سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، وَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ ابْنُهُ ابْنَةَ أُخْتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَهِيَ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَى قُرَيْشٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ مَا أَنْزَلَ {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ} [الأحزاب: ٥] الْآيَةَ، دُعِيَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ أُولَئِكَ الْمُتَبَنِّينَ إِلَى أَبِيهِ، فَإِنْ لَمْ يُعْلَمْ أَبُوهُ رُدَّ إِلَى مَوَالِيهِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ، وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ، وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنَّا نَرَى أَنَّ سَالِمًا وَلَدٌ، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا فَضْلٌ، وَلَيْسَ لَنَا إِلَّا بَيْتٌ وَاحِدٌ، فَمَاذَا تَرَى؟، فَقَالَ لَهَا: «أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ»سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ، جو بدری تھے، انہوں نے سالم کو، جنہیں سالم مولیٰ ابی حذیفہ کہا جاتا ہے، منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا جیسے نبی کریم ﷺ نے زید کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا، اور ابوحذیفہ نے سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے ہوئے اپنی بھانجی فاطمہ بنت ولید بن عتبہ سے ان کا نکاح کر دیا، وہ اولین ہجرت کرنے والی خواتین میں سے تھیں اور اس وقت قریش کی بہترین بے شوہر عورتوں میں سے تھیں۔ پھر جب اللہ عزوجل نے اس بارے میں جو نازل فرمایا وہ نازل فرمایا: ”انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو“ [سورۃ الاحزاب: 5]، تو ان منہ بولے بیٹوں میں سے ہر ایک کو اس کے باپ کی نسبت سے پکارا جانے لگا، اور اگر اس کے باپ کا علم نہ ہوتا تو اسے اس کے آقاؤں کی طرف لوٹا دیا جاتا۔ تو سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا، جو ابوحذیفہ کی بیوی تھیں اور بنو عامر بن لؤی سے تھیں، (رسول اللہ ﷺ کے پاس) آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سالم کو بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے پاس آتے تھے جبکہ میں گھر میں بغیر پردے کے ہوتی تھی، اور ہمارے پاس صرف ایک ہی گھر ہے، آپ کیا رائے دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”انہیں دودھ پلا دو، تم ان پر حرام ہو جاؤ گی۔“