المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من أخبار سالم ووفاته باب: سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے واقعات اور وفات
حدیث نمبر: 6346
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لَأَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ أَمْرِ سَالِمٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ» فَقَالَتْ: إِنَّهُ كَبِيرٌ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَوَ لَيْسَ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ» ؟ ثُمَّ جَاءَتْ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِمَا أَكْرَمَكَ بِهِ مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا بَعْدُترجمہ
راوی بیان کرتی ہیں: سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر سالم کے معاملے میں کچھ ناگواری محسوس کرتی ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”انہیں دودھ پلا دو۔“ انہوں نے عرض کیا: وہ تو بڑے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”کیا مجھے معلوم نہیں کہ وہ ایک مرد ہیں؟“ پھر وہ بعد میں آئیں اور عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت بخشی، اس کے بعد میں نے سیدنا ابوحذیفہ کے چہرے پر کچھ نہیں دیکھا۔