المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند سالم مولى أبي حذيفة باب: سیدنا سالم رضی اللہ عنہ، ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام، کی مرویات
حدیث نمبر: 6348
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ سَالِمٍ، مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى سَطْحٍ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَأَتَاهُ: فَقَالَ: أَلَا تَطْعَمُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ؟ فَأَشَارَ بِيَدِهِ , حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ، فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ قَالَ: «ائْتِنِي بِطَعَامِكَ» ، فَطَعِمَ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ "ترجمہ
سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان میں چھت پر تھے اور وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو وہ ان کے پاس آئے اور کہا: اے رسول اللہ کے خلیفہ! کیا آپ کھانا نہیں کھائیں گے؟ تو انہوں نے ہاتھ سے اشارہ کیا، یہاں تک کہ دو بار ایسا کیا، پھر جب تیسری بار ہوا تو انہوں نے فرمایا: ”اپنا کھانا میرے پاس لاؤ۔“ تو انہوں نے کھانا کھایا اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور نماز کھڑی ہو گئی۔