المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمة بن أمية أخو يعلى بن أمية بن خلف الجمحي باب: سیدنا سلمہ بن امیہ رضی اللہ عنہ، یعلیٰ بن امیہ بن خلف جمحی کے بھائی
حدیث نمبر: 6334
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْعُصْفُرِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّهِيدُ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ عَمَّيْهِ يَعْلَى، وَسَلَمَةَ ابْنَيْ أُمَيَّةَ قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَقَاتَلَ رَجُلًا، فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ، فَجَذَبَهَا مِنْ فِيهِ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ، فَذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسْأَلَهُ الْعَقْلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ، فَيَعَضُّهُ عَضَّ الْفَحْلِ، أَوْ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ , ثُمَّ يَأْتِي لِيَسْأَلَ الْعَقْلَ؟ لَا حَقَّ لَهَا» فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَترجمہ
امیہ کے دونوں بیٹے سیدنا یعلیٰ اور سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، اور ہمارے ساتھ اہلِ مکہ میں سے ہمارا ایک ساتھی تھا، اس نے ایک شخص سے لڑائی کی، تو اس شخص نے اس کا بازو کاٹ لیا، اس نے اپنا بازو اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے کے دو دانت گر گئے، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس دیت مانگنے گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے پاس جائے اور اسے نر اونٹ کی طرح کاٹے، یا جس طرح نر اونٹ کاٹتا ہے، پھر دیت مانگنے آئے؟ اس کا کوئی حق نہیں۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے باطل قرار دے دیا۔