حدیث نمبر: 6335
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْكَرَابِيسِيُّ الْمَعْرُوفُ بِشُعْبَةَ، وَكَانَ يُجَالِسُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، ثنا حَفْصُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ شَيْبَانَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَجَمَاعَةٌ مِنَ أَهْلِ بَيْتِهِ وَوَلَدِهِ، فَاسْتَأْذَنُوا عَلَيْهِ، فَدَخَلُوا، فَقَالَ: «مَنْ هَؤُلَاءِ؟» قِيلَ لَهُ: هَذَا وَفْدُ عَنَزَةَ، فَقَالَ: «بَخٍ بَخٍ بَخٍ نِعْمَ الْحَيُّ عَنَزَةُ مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ مَنْصُورُونَ، مَرْحَبًا بِقَوْمِ شُعَيْبٍ، وَأَخْتَانِ مُوسَى، سَلْ يَا سَلَمَةُ عَنْ حَاجَتِكَ» ، قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَمَّا افْتَرَضْتَ عَلَيَّ فِي الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْعَنْزِ، فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ جَلَسَ عِنْدَهُ قَرِيبًا، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ فِي الِانْصِرَافِ، فَقَالَ لَهُ: «انْصَرِفْ» ، فَمَا غَدَا أَنْ قَامَ، فَقَالَ: «اللهُمَّ ارْزُقْ عَنَزَةَ كَفَافًا، لَا قُوتًا وَلَا إِسْرَافًا»
ترجمہ

سیدنا سلمہ بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے اہلِ خانہ اور اولاد کے ایک گروہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے اجازت مانگی اور اندر آئے، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ آپ ﷺ کو بتایا گیا: یہ قبیلہ عَنَزہ کا وفد ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بخ بخ بخ، عنزہ کتنی اچھی قوم ہے، ان پر ظلم کیا جاتا ہے مگر وہ مدد کیے جاتے ہیں، سیدنا شعیب علیہ السلام کی قوم اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے سسرالی رشتہ داروں کو خوش آمدید، اے سلمہ! اپنی حاجت پوچھو۔“ انہوں نے عرض کیا: میں آپ سے یہ پوچھنے آیا ہوں کہ آپ نے اونٹوں، بکریوں اور بھیڑوں کی زکوٰۃ میں مجھ پر کیا فرض کیا ہے، تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا، پھر وہ کچھ دیر آپ ﷺ کے قریب بیٹھے رہے، پھر واپس جانے کی اجازت مانگی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”واپس جاؤ۔“ ابھی وہ کھڑے ہی ہوئے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! عنزہ کو کفایت شدہ رزق عطا فرما، نہ صرف بقدرِ ضرورت اور نہ فضول خرچی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6335
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 55، حدیث 6364