المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمة المحبق الهذلي، واسم المحبق صخر من بني لحيان باب: سیدنا سلمہ محبق ہذلی رضی اللہ عنہ، محبق کا نام صخر تھا، بنو لحیان سے تعلق رکھتے تھے
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ، وَأَنَّ ذَلِكَ رُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: «إِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ أَمَةٌ، وَلَهَا مِثْلُهَا - يَعْنِي لِسَيِّدَتِهَا - وَإِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ، وَلِسَيَّدَتِهَا مِثْلُهَا» قَالَ عَلِيٌّ: فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ قَتَادَةَ يَقُولُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ , فَقَالَ سُفْيَانُ: قَالَ عَمْرٌو: بَيْنَهُمَا إِنْسَانٌ , أَوْ رَجُلٌ , فَقَالَ لَهُ الْهُذَلِيُّ - يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ الْهُذَلِيَّ: بَيْنَهُمَا قَبِيصَةُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ سُفْيَانُ: وَإِنَّمَا أَعْرِفُ هَذَا الْهُذَلِيَّ، إِنَّهُ مِنْ قَوْمِ سَلَمَةَسیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی کی لونڈی کے پاس گیا، اور یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ اس کی خوشی سے راضی ہوئی تو وہ لونڈی رہے گی، اور اس کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی ملے گی، اور اگر اس نے اسے زبردستی مجبور کیا تو وہ آزاد ہو جائے گی، اور اس کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی ملے گی۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علی بن عبدالعزیز نے سفیان سے پوچھا کہ قتادہ تو حسن سے، قبیصہ بن حریث سے، سلمہ بن محبق سے روایت کرتے ہیں، تو سفیان نے کہا: عمرو کہتے ہیں کہ ان کے درمیان ایک شخص ہے، تو ابوبکر ہذلی نے کہا: ان کے درمیان قبیصہ بن حریث ہیں۔ سفیان کہتے ہیں: میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ یہ ہذلی سلمہ کی قوم میں سے ہے۔