المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمة بن صخر البياضي الأنصاري باب: سیدنا سلمہ بن صخر بیاضی انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ، فَسَمِنَتْ , وَتَرَبَّعَتْ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا فِي النِّصْفِ مِنْ رَمَضَانَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَأَنَّهُ يُعَظِّمُ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنَّ تُعْتِقَ رَقَبَةً؟» قَالَ: لَا , قَالَ: «أَتَسْتَطِيعُ أَنَّ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟» قَالَ: لَا , قَالَ: «أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟» قَالَ: لَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فَرْوَةُ بْنَ عَمْرٍو، أَعْطِهِ ذَلِكَ الْفَرَقَ وَهُوَ مِكْتَلٌ يَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا فَلْيُعْطِهِ سِتِّينَ مِسْكِينًا» ، قَالَ: أَعْلَى أَفْقَرَ مِنِّي؟ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَابَيَتْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ»سیدنا سلمان بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو رمضان گزرنے تک اپنے اوپر اپنی ماں کی پیٹھ کی طرح (حرام) قرار دے دیا (ظہار کر لیا)، پھر وہ فربہ اور صحت مند ہو گئی، تو انہوں نے رمضان کے نصف میں اس سے مجامعت کر لی، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے گویا وہ اس معاملے کو بہت بڑا سمجھ رہے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم لگاتار دو مہینے روزے رکھ سکتے ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے فروہ بن عمرو! اسے وہ فَرَق دے دو“ — جس میں پندرہ صاع آتے تھے — ”وہ اسے ساٹھ مسکینوں کو دے دے۔“ انہوں نے کہا: کیا مجھ سے زیادہ فقیر پر؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، مدینہ کی دونوں پٹیوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں! تو رسول اللہ ﷺ ہنس دیے، پھر فرمایا: ”اسے اپنے گھر والوں کے پاس لے جاؤ۔“