حدیث نمبر: 6188
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ خَالِدٍ، أُرَاهُ مِنْ خُزَاعَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ، فَكَأَنَّهُمْ عَابُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا بِلَالُ أَقِمِ الصَّلَاةَ أَرِحْنَا»
ترجمہ

سیدنا سلمان بن خالد رضی اللہ عنہ — غالباً قبیلہ خزاعہ سے تھے — بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نماز پڑھی اور آرام محسوس کیا، تو گویا لوگوں نے اس پر انہیں معیوب جانا، اس پر انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اے بلال! نماز قائم کرو، ہمیں آرام پہنچاؤ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6188
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 276، حدیث 6214